Muharram-Ul-Haram-16

ماہ محرم اور امن وسلامتی کا قیام کیوں اور کیسے ؟

جونہی ماہ محرم کی ہر سال آمد ہوتی ہے تو انتظامیہ امن و امان کو قائم کرنے کے لیے متحرک ہو جاتی ہے حکومت ہر طرح سے کوشش کرتی ہے کہ پاکستان کی عوام ہر قسم کی شیطانیت اور شرارت سے محفوظ رہیں۔اور خوف وہراس کی کیفیت نہ ہونے پائے۔ماہ محرم ایک محترم مہینوں میں سے ایک ہے دور جاہلیت سے اس کی حرمت قائم ہے قریش کی لڑائیاں اور جھگڑے اور جنگ و جدال حرمت والے مہینوں کی آمد پر خود بخود احترام کی وجہ سے رک جایا کرتے تھے۔ماہ محرم کی آمد پر چاہیے تو یہ تھا کہ سنی شیعہ ،اہل حدیث اور بریلوی ایک ہو جاتے آپس کی تمام دوریوں کو دور کر کے قریب سے قریب تر ہو جاتے اور کسی قسم کا امن و سلامتی کے حوالہ سے کوئی مسئلہ نہ بنتا۔لیکن معاملہ بالعکس ہے۔ماہ محرم کی آمد پر حکومت امن کمیٹیوں کے اجلاس بلاتی ہے آپس میں مل جل کر رہنے کی تلقین تو کیا آڈر جاری کرتی ہے آخر ایسا کیوں ہوتا ہے اور امن و سلامتی کو کیسے قائم رکھا جا سکتا ہے۔
پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ تمام مسلمان عوام اسلامی تعلیمات سے نابلد ہے۔مذہبی تعصب کی وجہ سے دوریاں اتنی ہو چکی ہیں کہ قربتوں کے پیدا کرنے کے لیے وقتی اجلاس بلائے جاتے ہیں۔اور پھر سارا سال حکومتیں سو جاتی ہیں۔قانون نافذ کرنے والے ادارے سستی کا شکار ہو جاتے ہیں۔انتظامیہ قانون سے بالا بالا معاملہ کرتی ہے۔انصاف والے کو انصاف نہیں ملتا۔ظالم کی امداد ہوتی ہے جس کا حق ہو تا ہے اسے اس سے محروم کر دیا جاتا ہے اور غاصب کی پشت پنا ہی ہوتی ہے۔لہذا معاملات بگڑتے ہیں۔امن و سلامتی کا مسئلہ پیدا ہو تا ہے۔خوف وہراس کی فضا قائم ہوتی ہے۔مال و دولت محفوظ نہیں رہتے۔ڈاکے عام ہوتے ہیں۔چوری کادور دورہ ہوتا ہے۔یہ بھی تعصب اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کو گاجر مولی کی طرح کاٹتے ہیں گزر گاہوں ،بازاروں اور گھروں میں اسلحہ کی نو ک پرامن و امان کو خراب کرنے والے واقعات رونما ہوتے ہیں۔فساد و انتشار بڑھ جاتا ہے یہی وہ وجوہات و اسباب ہیں کہ آج مسلمان کو دہشت گرد گردانا جا رہا ہے جس کے چہرے پر سنت ہو اسے تخریب کار شمار کیا جا رہاہے ہے۔جبکہ اسلام اور مسلمان تخریب کاری اور فتنہ و فساد پر لعنت بھیجتے ہیں ہیں۔اسلام سلامتی کو چاہتا ہے اور مسلمان صلح پسند ہو تا ہے اسے اسلام اور ایمان دونوں امن و سلامتی کا درس دیتے ہیں۔امن و سلامتی کی اہمیت ہر دور میں یہ کوشش رہی کہ مسلمان آپس میں شیر و شکر بن کر رہے۔اسلام مسلمانوں کے لیے بالخصوص اور پوری دنیا کے لیے بالعموم امن و سلامتی کا پیغام ہے۔
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں اور اسے مومن بھی اسی وجہ سے کہا جا تا ہے کہ وہ امن پسند اور امن دینے والا ہو تا ہے۔
رسو ل صلی اللہ علیہ وسلمنے فرماتے ہیں کہ مومن وہ ہے جس کے شر سے لوگ محفوظ رہیں۔پیغمبر امن و سلامتی نے فرمایا کہ کسی مسلمان کے لیے جائز اور مناسب نہیں کہ وہ مسلمان بھائی کو ڈرائے اور اسے خوف زدہ کر ے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صحیح مسلم کی روایت ہے جس آدمی نے اپنے مسلمان بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ کیا اس پر اللہ تعالیٰ کے فرشتے لعنت کرتے ہیں جب تک وہ باز نہیں آتا اس پر لعنت ہوتی رہتی ہے۔
خطبہ حجتہ الوداع کے موقع آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جان و مال اور عزت کی حفاظت کے حوالہ سے فرمایا بے شک تمہارے خون ،مال اور عصمت اس طرح حرمت والے ہیں جس طرح یہ دن اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں حرمت والا ہے۔لہذا کسی مسلمان کے مال یا اس کی جائیداد کو بم دھماکوں سے تباہ کرنا حرام ہے جیسا کہ قتل کرنا حرام ہے اسلام کے ہاں ایک مسلمان کو قتل کرنے پر پانچ اور سزائیں ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (جو کوئی کسی مسلمان کو قصد قتل کر دے اس کی سزا جہنم ہے )جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے۔ا س پر ا? تعالیٰ کی لعنت ہے اور اس کے لیے تیرا عذاب تیارکر رکھا ہے۔حضرت ابو سعید الخدری سے مروی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اک آسمان و زمین والے تمام کے تمام ایک مومن کے خون میں شریک ہوں تو اللہ تعالیٰ ان سب کو جہنم میں ڈال دے۔
اسلام انسان کو عام طور پر احترام اور مسلمان کو خاص طور پر اکرام فراہم کرتا ہے۔وہ اسے بھائی چارگی ،اخوت و محبت اور پیار کا درس دیتا ہے وہ اسے ظلم و زیادتی اور قتل و غارت سے منع کرتا ہے اسلام مسلمانوں کو یہاں تک تلقین کرتا ہے کہ وہ جان و مال اور عزت کی حفاظت کر ے بھلا وہ نیست و نابود کرنے اور ان کے جان و مال کی بربادی کی رہنمائی کیسے کر سکتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ اس پر ظلم نہیں کرتااور وہ اسے رسوا و ذلیل و خوار نہیں کر تا مسلمان کو حقیر نہیں جانتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر مسلمان کا خون مال اور اس کی عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔
اخوت و محبت اور امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے والے اسلام کے ہاں سزا کے مستحق ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے جو لوگ ا? اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں انکی سزا یہی ہو سکتی ہے کہ انہیں اذیت دیکر قتل کیا جائے اور یا سولی پر لٹکایا جائے یا انکے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیے جائیں یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے انکے لیے یہ ذلت دنیا میں ہے اور آخرت میں انہیں بڑا عذاب ہو گا۔ (سور ہ مائدہ:۳۳)
علماء امت شیعہ ،اہلحدیث دیو بندی اور بریلوی علماء کرام کو چاہیے کہ وہ اسلام کے امن و سلامتی کے پہلو کو خاص کر واضح کریں تاکہ مسلمانوں سے دہشت گرد ہونے کے الزام کو دور کیا جا ئے۔اور امت مسلمہ اپنے وقار کو بحال کر ے اور عزت و عظمت اور مقام کو واپس لے حاکم وقت کو چاہیے کہ وہ ا? تعالیٰ کا خلیفہ اور نائب ہے وہ امن و امان اور سلامتی کے قیام کو حدود کے نفاذ کے ساتھ قائم کرے اور رعایا کی جان و مال اور عزت کو محفوظ بنائے۔
آئے دیکھتے ہیں کہ اسلام میں امن و سلامتی کے عوامل کونسے ہیں تاکہ انہیں اپنا کر ملک و ملت اور ہر شہر و بستی کو امن کا گہورا ہ بنایا جا سکے اور خوف حراس کی فضا کی بجائے اطمینان و سکون میسر آئے۔انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ امن و مان کے ان عوامل اور اسباب سے متعارف ہو کر اسلامی بنیادوں پر اپنی اوردہشت گردی کو دور کرنے کا مستقل بندوبست کریں۔
پہلا سبب۔ایمان باللہ میں پختہ ہو نا
آج امت مسلمہ جس خطرات اور پریشانی کا شکار ہے اس سے نکلنے کا ایک اہم حل یہ ہے کہ ہم سب مسلمان صحیح مومن بن جائیں امن و امان کو قائم کرنے کا بہترین اور نو اولین حل ہے محرم و غی محرم میں اس حل کو اپنائے رکھنے میں ہی امن سکون کا قیام ہو سکتا ہے اور بد امنی انتشار کا خاتمہ ہو سکتا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ پھر جو شخض ایمان لے آیا اور اصلاح کر لی تو ایسے لوگوں پر خوف نہ ہو گا اور نہ ہی وہ غمزدہ ہو نگے (سورہ انعام )دوسری جگہ ارشاد ہو تا ہے۔جو لوگ اور نیک عمل کیے انکے خوشحالی اور عمدہ ٹھکانہ ہے (سورہ انفال)
آیات مذکورہ سے معلوم ہو تا ہے کہ ایمان و امن لازم ملزوم ہیں سچاایمان ہوگا تو امن بھی ہو گا اگر ایمان میں خلل اور کمزوری ہو گی تو بدامنی اور نتشار ہو گا
دوسرا سبب۔اکیلے اللہ کی عبادت اور شرک سے دوری
امن عامہ کو قائم کرنے کا دوسرا بڑا عامل اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت میں پیش پیش ہو نا ہے جب مسلمان مجموعی اعتبار سے اللہ کی عبادت کرینگے تو پتہ چلے گا کہ انکا ایمان پختہ ہے اور جن کاایمان پکا ہو گا امن نصیب ہو گا ارشاد باری تعالیٰ۔اور انکے خوف کو امن میں تبدیل کر دیگا وہ میری ہی عبادت کریگے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنا ئیں گے۔پھر امن و امان کا معاملہ اتنا سدھرے گاکہ ایک عورت حیرہ سے اکیلی سفر کر کے آئی خانہ کعبہ کا طواف کیا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہ تھا جیسا کہ عدی بن حاتم بیان کرتے ہیں (صحیح البخاری حدیث نمبر 3595)لہذا تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ محرم امن والے مہینے میں بدعات سے محفوظ ہو کر ایک اللہ کی عبادت کریں یہ ماہ انہیں امن فراہم کرنے کا سبب بنے گا۔
تیسرا سبب۔دعا کرنا
مسلمانوں کے مابین اختلافات اور نزاعات کو دور کرنے کا اہم عامل ا? تبارک و تالیٰ سے دعا کرنا ہے اور اس کے سامنے جھولیاں پھیلانا ہے تب امن و امان قائم ہو گا رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب نئے ماہ کا چاند دیکھتے تو دعا فرماتے۔اللہ سب سے بڑا ہے اے ا? تو ہمیں یہ چاند امن و ایمان اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ دکھا ہمارا اور اے چاند تیرا رب اللہ ہی ہے۔
ہر نماز کے بعد دعا فرماتے۔اے اللہ آپ سلامتی والے ہیں اور آپ ہی کی طرف سے سلامتی ہے
صبح و شام دینی دنیاوی محبت و عافیت اور سلامتی کے لیے دعائیں فرماتے آپ فرماتے۔اے اللہ دنیا و آخرت کی معافی چاہتا ہوں اہل و عیال اور مال و دولت میں عاقبت کا سوالی ہوں اے اللہ عیبوں پر پردہ ڈال دیں اور خوف دور میں صحیح امن میں رکھیں اے اللہ میرے سامنے آگے پیچھے دائیں اور بائیں اوپر نیچے سے میری حفاظت فرمائیں
امن و امان اور سلامتی کا سبب کا ایک سبب اللہ تعالیٰ کو پکارنا اور مشکلات کو دور کرنے کے لیے اس کی دستگیر ی جاننا ضروری ہے مجموعی اعتبار سے امت مسلمہ اس حوالہ سے بڑی کمزوری کا شکار ہے یہی وجہ ہے کہ اختلافات اور فسادات عام ہیں لہذا مسلما نوں کی سلامتی کے لیے نہایت اخلاص کے ساتھ بارگاہ وہ الہی میں دست دعا دراز کرنے چاہیے
چوتھا سبب۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا
اسلامی معاشرہ کو برا ئیوں اور فسادات سے بچانے اور نیکی کو عام کرنے کی غرض سے اس فریضہ کو سر انجام دینا ضروری ہے تمام مکاتب فکر اور حکومتی اہل کاروں پر مشتمل ایک کمیٹی ایسی ہونی چاہیے جو یہ فریضہ سر انجام دے وہ مختلف وسائل کو استعمال کر کے اور اچھے کاموں کی ترغیب دے اور برائی سے منع کرے گھر میں والدین ،مساجد میں اعظین و علماء سکولوں و کالجوں میں معلمین ،سرکاری محکموں میں افسران بیک وقت اس ذمہ داری کو ادا کریں نہ صرف محر م میں انشاء اللہ امن قائم ہو گا۔اور معاشرے میں انقلاب بر پا ہو گا شیعہ و سنی کے مسائل کا حل نکلے گا وہ ایک دوسرے کے قریب آئینگے۔
پانچو اں سبب۔ایذاء رسانی سے بچنا
رسول مکرم پیغمبر امن و سلامتی کا فرمان ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماتے ہیں۔اسلام میں اپنے آپ کو یا دوسرے کسی کو نقصان پہنچانا درست نہیں ہے چہ جائے کہ اسے قتل کیا جائے اس کی عزت کو لوٹا جائے اور مال پر ڈاکہ ڈالا جائے۔
مذہبی ،غیر مذہبی ،سیاسی ،غیر سیاسی معاشرے کا ہر فرد یہ فیصلہ کر لے کہ اس نے ایذاء رسائی سے بچنا ہے تو معاشرہ امن کا گہوراہ بن جائیگا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔بہتر وہ شخص ہے جس سے خیر کی امید رکھی جائے اور اس کے شر سے لوگو امن میں رہے اور بد تر غیر وہ شخص ہے جس کے شر سے محفوظ نہ رہا جائے۔
چھٹا سبب۔بھائی چارگی کو فروغ دینا
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
بھائی بھائی کا ہمدرد اور خیر خواہ ہو تا ہے وہ اسے نقصان نہیں پہنچاتا۔جو اپنے لیے پسند کر تا ہے وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کر تا ہے اسلامی نکات سے ہر مسلمان کو ایک دوسرے کا بھائی اور برادر ظاہر کر تیں ہیں۔آج کا مسلمان ان تعلیمات سے نابلد ہے اسے اپنے آپ کا تعارف ہی نہیں ہے یہی وجہ ہے باہم لڑائی اور جھگڑے ہوتے ہیں ایک دوسرے کا احترام نہیں ہے۔فساد بگاڑ عام ہے بھائی چارگی کا خاتمہ۔علماء کرام و اعظین اور ذاکرین کو چاہیے کہ وہ مذکورہ عوامل کے بارے میں صدا بلند کریں اور اپنے ذمہ داری کو ادا کریں عام مسلمانوں کو ان تعلیمات سے متعارف کروانا علماء اور مذہبی طبقہ کی ذمہ داری ہے حکومت صوبائی اور ضلعی علماء کرام کے نام لیٹررز اور خطوط جاری کریں کہ وہ ممبر و محراب کو اختلافات عام کر نے کا ذریعہ نہ بنائیں۔
ساتواں سبب۔اندرونی استحکام کا ضروری ہو نا اسلامی پہلی ریاست کا آغاز
اندروی استحکام سے صدا آپ نے امن و امان کو ترجیح دی اوراوس و خزاج کو یکجا کیا انصار و مہاجر میں بھائی چارہ قائم کیا یہودیوں سے امن کا معاہدہ کیا
حضرت ابو بکر صدیق نے داخلی فتنوں کا خاتمہ کیا لہذا سرکاری ذمہ داری ہے کہ وفاقی وصوبائی اور ضلعی سطح اور تحصیل سطح تک مشاورتی کونسلیں بنائی جائے جو تنازعات کا حل تلاش کرنے میں با اختیار ہو ں تب ان شاء اللہ امن عامہ قائم ہو گا لوگوں کو انصاف ملے گا۔اور رواداری کو فروغ ملے گا لوگ ایک دوسرے کے قریب آئینگے اتفاق و اتحاد کے راستے کھلیں گے اور پاکستانی دھرتی امن کا مرکز بن جائیگی۔کونسل کو یہ اختیاربھی ہو گا کہ وہ لسانی و نسلی تعصب کا خاتمہ کروائے اور اشتعال دینے والے اشخاص اور تحریکوں کی نشاندھی کریں اورعدالتیں انکے مابین فیصلے کرنے میں متحرک ہو۔جو لوگ فسادات بر پا کرتے ہیں انہیں اعلانیہ سزائیں دی جائیں۔امن عامہ کے قیام کا اہم ترین عامل حدود الہیا کا نفاذ ہے اور امن انکے نفاذ میں پناہ اور پوشیدہ ہے عدالتی کا روائی کے بعد مجرموں اور دہشت گردوں کو حیرت ناک سزاؤں کو یقینی بنانا سلامتی کا واحد اور یقینی راستہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>