مجھے ہے حکم اذاں…………..تصاویر اور حج

میدان عرفات میں تحریک انصاف کے چند کارکنوں کا احرام کی حالت میں دعاؤں کے اوقات میں اپنا جھنڈا بلندکرکے گو نوازگو کے نعرے لگانے اور پھر ان تصاویرکو سوشل میڈیا پر لگانے سے حیرت نہیں ہونی چاہئے کیونکہ ان بیچاروں کو علم ہی نہیں تھا کہ حج جیسی عبادت جو دنیا بھرکے جھوٹے خداؤں ، جھوٹے نظریات، جھوٹے اور نقلی تصورات کی نفی کرکے صرف کلمہ توحیدکو بلند کرنے کیلئے ہوتا ہے اس میں ایسی حرکات سے شعائراسلام کی توہین بھی ہوتی ہے ، وہیں امسال حج کے موقع پر اکثرحجاج کرام کی طرف سے اپنی تصاویرکو سوشل میڈیا پر لگانا بھی میڈیا میں موضوع سخن رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ حج جیسا عمل جو صرف اخلاص پر مبنی ، رضائے الہی کے حصول کیلئے ، ریاکاری سے بچتے ہوئے ادا کیا جائے وہی مقبول ہوتا ہے ، لیکن حج کے عمل میں ہر رکن کی ادائیگی، آتے جاتے ، احرام کی حالت میں جس طرح تصاویرکھینچی جارہی ہیں اور یہاں تک کہ دوران طواف بیت اللہ کے سامنے سکائپ آن کرکے طواف کیا جارہا ہے اور دوسری طرف افراد سے باتیں کی جارہی ہیں ، اس سے حج جیسے عظیم عمل صالح کو ہم نے اپنی ذاتی خواہشات کی بھینٹ چڑھا کر کلمہ توحیدکی کبریائی کے اعلان کے ساتھ مذاق کیا ہے۔ تمام عبادات کی روح اخلاص اور ریاکاری سے بچنا ہے ، نمودونمائش ، دنیاوی شہرت سے اعمال نہ صرف ضائع ہوتے ہیں بلکہ انسان غضب الہی کو بھی دعوت دیتا ہے۔ عبادات نام ہی اخلاص اور نمودونمائش سے بچنے کا ہے ، ریاکاری اعمال کو ضائع کردیتی ہے ، کیونکہ عبادت صرف اللہ کی رضاکیلئے کی جاتی ہے، مسنداحمد میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا جو شخص دکھلاوے کی نمازپڑھتا ہے یا دکھلاوے کا روزہ رکھتا ہے یا دکھلاوے کا صدقہ وخیرات کرتا ہے تو اس نے شرک کیا۔ایک اور موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جس کا خوف مجھے تم پر مسیح دجال سے زیادہ ہے ، صحابہ نے عرض کیا ہاں ، آپ نے فرمایا وہ شرک خفی ہے وہ اس طرح کہ کوئی شخص نمازکیلئے کھڑا ہو پھر اپنی نمازکو محض دکھلاوے کیلئے عمدہ طریقے سے ادا کرے۔ شداد بن اوسؓ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس دورمیں ہم ریاکاری کو شرک اصغرسمجھتے تھے ، اور موقع پر آپ نے ارشادفرمایا ، جو شخص شہرت کیلئے عمل کرے گا اللہ اسے بدلے میں شہرت ہی دے گا ، اور جو شخص ریاکاری کیلئے عمل کرے گا اللہ اسے ریاکاری ہی دے گا۔
آپ ایئرپورٹ پر چلے جائیں حاجی ایئرپورٹ سے باہر آتے ہیں تو استقبال کیلئے آنے والے جس طرح پھولوں سے لادتے ہیں ، پھرتصاویر لی جاتی ہیں، گھروں کے باہر حج مبارک کے بورڈ لگائے جارہے ہیں تو محسوس ہوتا ہے شاید ورلڈکپ جیت کرآئے ہیں ، اللہ کے بندو ایک نیک عمل کی ادائیگی کی اللہ نے تمہیں توفیق دی تو رب کا شکراداکرو اور عاجزی وانکساری سے چلے آؤ۔ اسلامی تاریخ کی عظمت کا سب سے اہم واقعہ فتح مکہ ہے، فتح مکّہ اسلامی تاریخ اور مسلمانوں کے عدل وانصاف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عفووکرم کا وہ منظر ہے کہ دنیا میں بسنے والا کوئی بھی انسان اگر صرف اسی دن میں ہونے والے مناظر کو عقل وشعور اور بصیرت کے ساتھ پرکھ لے تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ دنیا میں اگر کوئی مذہب حقوق انسانیت اور احترام انسانیت کا درس دیتا ہے وہ صرف اسلام ہے ، اپنے ہوں یا بیگانے، تمام اس نظامِ رحمت کے سائے میں اس طرح آگئے کہ پوری انسانی تاریخ میں کوئی دوسرا واقعہ ہمیں اس کا مقابلہ کرتے نظر نہیں آتا۔ لیکن ایک ایسا شہرجہاں سے آپ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ، اور آج وہاں ایک فاتح کی حیثیت سے داخل ہورہے ہیں ، دنیاوی تاریخ میں فاتحین فتح کے شادیانے بجاتے ہوئے آتے ہیں ، حضرت انسؓ راوی ہیں کہ جب آپ مکّہ میں فاتحانہ داخل ہوئے تو تمام لوگ آپ کو دیکھ رہے تھے لیکن آپ تواضع کی وجہ سے سر کو جھکائے ہوئے تھے، اور دعاؤں کے ساتھ اللہ کے سامنے سربسجود ہونے کا اظہار کر رہے ہیں۔ عبادات کی ادائیگی کی تصاویر، اور پھر ان کی ایسے رونمائی سے بچتے ہوئے ہرمسلمان کو یہ دعاکرنا چاہیے کہ جس بھی نیک عمل کی اللہ نے اسکو توفیق دی ہے اسے اخلاص کے ساتھ اداکرے تاکہ اللہ تعالیٰ اسے قبولیت سے نوازے یہی اصل مقصود ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>