پاکستان ایک نظر میں – تصویر کا دوسرا رخ

 سیکھنے اور تجرباتی اقداموں کو ذاتی مفادات اور سیاست کی نذر کرنے سے تعلیمی ماحول برقرار نہیں رہ پاتا۔

گزشتہ دنوں اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد اور یو این کے اشتراک سے ” یو این ڈیبیٹ کانٹسٹ“ کا انعقاد کیا گیا،فیصل مسجد کے نیچے حال میں جاری اس پروگرام میں یو این کی فرضی پارلیمنٹ بھی بنائی گئی جس میں مختلف ممالک کے فرضی ممبران نے تقریریں کیں۔ پروگرام نہایت خوش اسلوبی سے چل رہا تھا، مگر ایک مقام پر بات بگڑ گئی۔ ہوا کچھ یوں کہ اسی پروگرام کا ایک حصہ یہ تھا کہ پروگرام میں شریک ممالک کے ثقافتی اسٹال سجانے تھے، اسی سلسلے میں یونیوسٹی کی فکیلٹی آف مینجمنٹ سائنس کی طالبات کے ایک گروپ نے اسرائیل کا ثقافتی اسٹال لگایا۔اسٹالز کی نمائش شروع میں تو معاملہ پرسکون رہا لیکن کچھ دیر بعدایک مخصوص جماعت کی طالبات نے اسرائیلی اسٹال کے خلاف ہنگامہ آرائی شروع کردی، جس کے نتیجے میں یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے نمائش فوری طور پر روک دی گئی ، اور بعد ازاں یونیورسٹی کے تین ارکان کو معطل کردیا گیا۔

اسٹال لگانے پر یونیورسٹی کے خلاف احتجاج کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا،بالخصوص اسلامی یونیورسٹی کے طلباءکی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا،مخالفین کا کہنا تھا کہ فلسطین میں ہزاروں بچوں ، عورتوں،اسکولوں، اسپتالوں کو بموں سے راکھ میں تبدیل کرنے والے ملک کی ثقافت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی،بحیثیت پاکستانی قوم جس نے اسرائیلی اسٹیٹ کو آج تک تسلیم نہیں کیا وہ کیسے ان فرضی مقابلوں میں اس کو تسلیم کریں، بہرحال مخالفین اپنے موقف میں مضبوط تھے۔

دوسری جانب اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے متعلقین سے اس سلسلے میں کی گئی گفتگو مختلف نقطہ نظر پیش کررہی تھیں،کہا جارہا تھا کہ یونیورسٹی ایک عرصے پہلے تک کرپشن اور اقرباءپروری میں دبتی جارہی تھی، جس کی بنا پر سعودیہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر احمد یوسف درویش کو صدر بنادیا گیا جس کے باعث چیک ان بیلنس سخت کردی گیا،کرپشن مشکل ہوگئی، سفارشی تقرریاں معطلی میں بدل گئی اسی طرح سفارشی ترقیاں تنزلی میں بدل گئی ، جس کی بنا پر یونیورسٹی میں ایک مخصوص لابی سرگرم ہے جو کہ اس نئے صدر اور یونیورسٹی کے دیگر قابل ایماندار ایڈمن اور لیکچرار کو بدنام کرنے میں کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی، اور اسی لابی نے اس ایشوکو گرمایا اور سیاست کے لئے ہر بار کی طرح اس بار بھی مذہب کا استعمال کیا۔

ایک اور طالب علم کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی ایک تعلیمی ادارہ ہے جسے سیاست سے پاک اور خالصتاً تعلیمی،تحقیقی بنیادوں پر آزاد ہونا چاہئے، سیکھنے اور تجرباتی اقداموں کو ذاتی مفادات اور سیاست کی نذر کرنے سے تعلیمی ماحول برقرار نہیں رہ پاتا۔ جبکہ اسی ” یو این ڈیبیٹ کونٹسٹ“ کے مقابلے میں بنائی گئی فرضی پارلیمنٹ میں مختلف ممالک کے فرضی ممبران کی جانب سے سب سے زیادہ اسرئیل کے خلاف ووٹ بھی ڈالے گئے اور اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر ان ممالک کے اسٹال بھی تیار کئے گئے۔

اسرائیل کے اسٹال پر لگے بینر یہ الفاظ ” WELCOME TO THE LAND OF PEACE AND PROSPERITY“ اسرائیل کی نمائندگی کررہے تھے۔ یقیناًجب ہم کسی کی ثقافت کو بیان کرتے ہیں تو جیسا وہ اپنے کو دنیامیں متعارف کراتے ہیں ، ہمیں ثقافتی طور پر ان کی نقل اس کے مطابق ہی کرنی پڑے گی۔ تعلیمی ادارے ایک تجرباتی لیبارٹریاں ہوتی ہیں جہاں مختلف تجربات کئے جاتے ہیں۔ تقابل ادایان کے علم میں اضافے کے خواہش مند لوگوں کے لئے ہندو، عیسائی،یہودیوں کے علم کو جاننا پڑتا ہے۔ اسی طرح میڈیکل پڑھنے کے لئے مینڈک سے لے کر انسانی جسموں پر چیرپھاڑ کے تجربے کئے جاتے ہیں۔

بہرحال ان تمام نقطہ نظر کا لب لباب یہی ہے کہ ہمارے اس معاشرے میں اکثر و بیشتر عمل سازش اور سیاست کی نظر ہوجاتا ہے،جس کے باعث بحیثیت قوم ہم اپنے اہداف بھول جاتے ہیں، حقیقی دشمن کا بھی طریقہ واردات کچھ ایسے ہی ہوتا ہے کہ جس قوم کو تباہ کرنا ہو ان کے درمیان افواہ،بہتان بازی اور کردار کشی کی ہوا چلا دی جاتی ہے جس سے وہ آپس میں ہی گتھم پیل ہوجاتے ہیں اور پھر ایسے معاشرے کے تعلیمی جامعات تحقیقی و تخلیقی صلاحیتوں سے خالی ہوجاتے ہیں، اور باصلاحیت طلبائ  و اساتذہ حوصلہ شکنی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.