Pr.Sajid Mir

پاکستان اقلیتوں کےلیے بھارت، امریکہ اور انسانی حقوق کے بڑے دعویدار ممالک سے کہیں زیادہ محفوظ ہے۔پروفیسرساجد میر

 

گوانتاناموبے میں قرآن پاک کی بے حرمتی، نبی اکرم ﷺ کے توہین آمیز خاکے، حجاب اور میناروں پر پابندی، مساجد کو جلانے کے واقعات پر انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش کیوں ہیں

لاہور (نمائندہ الاحسان) مرکز ی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر پروفیسرساجد میر نے کہا ہے کہ ایک آدھ واقعہ کو بنیاد بنا کر انسانی حقوق اور اقلیتوں کے نام پر پاکستان کو بدنام کیا جارہا ہے۔ پاکستان آج بھی اقلیتوں کے لیے پوری دنیا سے محفوظ ملک ہے۔ مرکزی دفتر میں علماء کے مشاورتی بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گوانتاناموبے میں قرآن پاک کی بے حرمتی ہوئی ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نعوذ باللہ توہین آمیز خاکے شائع ہوئے ،حجاب پر پابندی کے قوانین بنے ، مساجد کو نذر آتش کیا گیا۔ میناروں پر پابندی لگی۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو صرف مسلمان ہونے کے جرم میں 86 سال قید ہوئی مگر انسانی حقوق کے علمبردار ادارے اور تنظیمیں خاموش رہیں۔پروفیسر ساجد میرنے کہا کہ جسٹس رنگاناتھ مشرا کی سربراہی میں قائم قومی کمیشن برائے مذہبی اور نسلی اقلیتوں نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بھارت میں اقلیتوں کی صورتحال کو بدترین قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسلمان ممالک میں اقلتیں محفوظ ہی نہیں مراعات یافتہ بھی ہیں۔کوٹ رادھا کشن میں مسیحی جوڑے کو جلانے کا واقعہ غیر اسلامی حرکت ہے جو ناقابل معافی ہے۔ اسی طرح مسلکی اور فرقہ وارانہ جھگڑوں کی بنیاد پر شعائر اسلام کی توہین کے مقدمات درج ہیں۔ جس میں بڑی تعداد میں مسلمان بھی جیلوں میں بند ہیں۔ جن میں اکثریت کے خلاف جھوٹے مقدمات درج ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے بارے میں نہ تو کوئی تعصب پایا جاتا ہے نہ ہی ان پر کسی قسم کی پابندیا ں ہیں۔ پاکستان میں اقلیتوں کا تنا سب تقریباً 3فیصد ہے اور آئین کے آرٹیکل 27کی رو سے یہ کسی بھی قسم کی ملازمت کے حقدار ہیں،کسی بھی تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں اوریہ کہنا کہ ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی ہو رہی ہے بذات خود سراسر زیادتی ہے۔ اقلیت سے تعلق رکھنے والی شخصیات، فوج ،سول اورعدلیہ میں کلیدی عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں۔َانہوں نے کہاکہ اگر بھارت، امریکہ اور انسانی حقوق کے بڑے دعویدار ممالک کے ساتھ ان کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو پاکستان اقلیتوں کیلئے ان ممالک سے کہیں زیادہ محفوظ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>