Pr.Sajid Mir

فلسطین اور شام کے مسلمانوں کو مظالم سے نجات دلانے کے لیے عالمی برادری کا کردار نہایت شرمناک ہے۔ سینیٹر پروفیسر ساجد میر

امام وخطیب مسجد نبوی شیخ عبدالمحسن القاسم نے کہا ہے کہ فلسطین کے عوام اپنی آزادی اور بقاءکی جنگ لڑ رہے ہیں اور دنیا انہیں بھی دہشت گرد قرار دے رہی ہے۔ دہشت گردی کا ناسور حقیقی معنوں میں عالم اسلام کے لیے نہایت تباہ کن ہے۔ اس نے اسلام کی اعتدال پسندانہ ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اسی دہشت گردی نے مسلمانوں کو تقسیم کرکے رکھ دیا ہے۔ وہ مرکز اہل حدیث گرین لین برمنگھم میں ایک استقبالیہ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے جس نے ارض فلسطین پر قبضہ کر رکھا ہے۔ وہاں کے بچوں، عورتوں اور ہر سطح کے شہریوں کو نہایت بے رحمی سے شہید کیا جا رہا ہے۔ فلسطین میں ہمارے بھائی اپنے حقوق اور آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کی جدو جہد آزادی برحق اور اس کے خلاف غاصب صہیونی ریاست کے حملے منظم ریاستی دہشت گردی ہیں۔ اسرائیلی ریاست اور ان عالمی دہشت گرد گروپوں کے مابین کوئی فرق نہیں جو معصوم شہریوں کو قتل کرنا، پوری کی پوری آبادیوں کو نیست ونابود کرنا اپنا فرض عین سمجھتے ہیں۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے استقبالیہ سے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی عالمی اور علاقائی خفیہ اداروں کی پیداوار ہے۔عرب خطے میں جاری لڑائیوں اور دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے عالمی خفیہ اداروں کے ہاتھ ہیں۔ اگرچہ پوری دنیا دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے مگر مسلمان ممالک کو ایک سازش کے تحت دہشت گردی کی چتا میں جھونکا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان جہاں کہیں بھی ظالم سے بر سر پیکار ہیں ان کی مدد نہیں کی جا رہی ہے۔ فلسطین اور شام کے مسلمانوں کو مظالم سے نجات دلانے کے لیے عالمی برادری کا کردار نہایت شرمناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام میں ایک مخصوص گروپ نے اپنی سیاسی بالادستی کے لیے معصوم بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کا ریاستی میشنری کے ذریعے قتل عام روا رکھا ہوا ہے۔ عالمی برادری اس پر بھی خاموش تماشائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں ہونے والی دہشت گردی ملکوں اور حکومتوں کی دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے۔ استقبالیہ سے مولانا عبدالہادی العمری، مولانا شعیب احمد، مولانا احسن حنیف نے بھی خطاب کیا

Leave a Reply

Your email address will not be published.

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>